حدیث نمبر: 45
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ الْمَكْفُوفُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : " فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَيْلَتِي ، فَلَا تَنْتَظِرُوا بِي الْغَدَ ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي إِلَيَّ أَقْرَبُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدہ عائشہ صدیقہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس دنیوی زندگی کے آخری لمحات قریب آئے ، تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ پیر کا دن ہے ، فرمایا : اگر میں آج ہی رات دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو کل کا انتظار نہ کرنا بلکہ رات ہی کو دفن کر دینا کیونکہ مجھے وہ دن اور رات زیادہ محبوب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہو ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 45
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن ميسر