حدیث نمبر: 4499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا ، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أرى أَوْ قَالَ : أَسْمَعُ رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيَهَا ، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر آ کر ایک دوسرے کے موافق ہو جاتے ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص شب قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرے ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2015 م: 1165