حدیث نمبر: 4490
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُؤُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى ، إِنْ زَادَ فَلِي ، وَإِنْ نَقَص فَعَلَيَّ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ ابْنُ عُمَرَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے، بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو ایک معین اندازے سے بیچنا اور یہ کہنا کہ اگر اس سے زیادہ نکلیں تو میری اور اگر کم ہو گئیں تب بھی میری۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا زیاد بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازے کے ساتھ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2172، م: 1542