(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي نَهْشَلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ : بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ، أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68 ، وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ ، أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ ، فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ : وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53 ، وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : " اللَّهُمَّ أَيِّدْ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ " ، وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ ، كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ .سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تمام لوگوں پر چار چیزوں میں فضیلت رکھتے ہیں: ① غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ نے ان کی موافقت میں یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ » [الأنفال : 68] ② حجاب کے بارے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، سیدنا زینب رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: اے ابن خطاب! تم ہم پر حکم چلاتے ہو جب کہ ہمارے گھروں میں وحی نازل ہوتی ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ﴾ » [الأحزاب : 53] ”جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔“ ③ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے حق میں دعا کے بارے کہ ”اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت عطا فرما۔“ ④ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے رائے کے اعتبار سے کہ انہوں نے ہی سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔