حدیث نمبر: 4301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَعَكَ طَهُورٌ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَمَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ ؟ " قُلْتُ : نَبِيذٌ ، قَالَ " أَرِنِيهَا تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ ، وَمَاءٌ طَهُورٌ " ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وَصَلَّى .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس برتن میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے دکھاؤ، یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.