حدیث نمبر: 4298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فِيمَا فَعَلْتَ ، أَمْ ابْتَدَعْتَ ؟ قَالَ : لَمْ يَأْتِنِي أَمْرٌ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَمْ أَبْتَدِعْ ، وَلَكِنْ " أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال

قاسم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز میں تاخیر کر دی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر کھڑے ہوئے، اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں امیر المومنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے یا آپ نے کوئی نئی چیز ایجاد کر لی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میرے پاس امیر المومنین کا کوئی حکم آیا ہے، اور نہ میں نے کوئی نئی چیز ایجاد کی ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول یہ نہیں چاہتے کہ ہم اپنی نماز کے لئے آپ کا انتظار کریں اور آپ اپنے کاموں میں مصروف رہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.