حدیث نمبر: 4147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ أَوْ قَالَ : نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ : يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ ، وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، ثُمَّ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا أَوْ قَالَ : هَكَذَا حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں (اور سحری کھا لیں)، صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی - راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا - بلکہ اس طرح ہوتی ہے۔“ راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1093.