حدیث نمبر: 4145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ ، وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ، وَيُوصِي أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ ، وَمَا حَدُثَ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ ، وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابتدا میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کر لیتے تھے، اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.