حدیث نمبر: 4117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ ، وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ قَالَ : مِنْ هَاهُنَا ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، اس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو دائیں جانب اور بیت اللہ کی طرف اپنا رخ کر رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «واستقبل البيت» ، وهو شاذ الفتح: 3/ 582، والصحيح أنه جعل البيت عن يساره كما تقدم برقم: 3941.