(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّةً فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ الثَّانِيَةَ فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَةَ فَرَدَّهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ إِنْ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَةَ رَجَمَكَ ، قَالَ : فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَةَ ، فَحَبَسَهُ ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ " .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ، اتنی دیر میں ماعز بن مالک آ گئے اور ایک مرتبہ بدکاری کا اعتراف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا ، دوسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ، تیسری مرتبہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیجا تو میں نے ان سے کہا : اگر تم نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رجم کی سزا دیں گے ، تاہم انہوں نے چوتھی مرتبہ آ کر بھی اعتراف جرم کر لیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور لوگوں سے ان کے متعلق دریافت کیا ، لوگوں نے بتایا کہ ہمیں تو ان کے بارے میں خیر ہی کا علم ہے ، بہرحال ! ضابطے کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دے دیا ۔