حدیث نمبر: 4036
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنِ الْعَيْزَارِ ، مِنْ تِنْعَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُجِّهَتْ اللَّعْنَةُ ، تَوَجَّهَتْ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِنْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا ، وَوَجَدَتْ سَبِيلًا ، أحَلَّتْ بِهِ ، وَإِلَّا جَاءَتْ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فُلَانًا وَجَّهَنِي إِلَى فُلَانٍ ، وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا ، وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ فَقَالَ : ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہو جاتی ہے، ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ ”جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، العيزار التنعي لم يدرك ابن مسعود.