حدیث نمبر: 4032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِمَّا زَادَ وَإِمَّا نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَإِمَّا جَاءَ نِسْيَانُ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِي ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " قُلْنَا : صَلَّيْتَ قَبْلُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " ، ثُمَّ تَحَوَّلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہو گئی یا بیشی؟ بہرحال! جب سلام پھیرا تو کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا نماز کے بارے کوئی نیا حکم نازل ہو گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، کیا ہوا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو اس اس طرح نماز پڑھائی ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 4032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 572.