حدیث نمبر: 3982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَخْبَرَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تَسْلِيمُ الرَّجُلِ عَلَيْكَ ، فَقُلْتَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ ، وَتَفْشُو التِّجَارَةُ ، حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ ، وَتُقْطَعُ الْأَرْحَامُ " .
مولانا ظفر اقبال

طارق بن شہاب نے ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن! ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے قریب سلام مخصوص ہو جائے گا، تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ بیوی شوہر کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹائے گی، اور رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وقوله: سيار أبو الحكم. خطأ، صوابه: سيار أبو حمزة، والإمام أحمد نفسه نبه على هذا الخطأ في: العدل برقم: 588 .