حدیث نمبر: 3808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ ، وَإِذَا أَسَأْتُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ أَسَأْتَ ، فَقَدْ أَسَأْتَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی نیکی اور برائی کا کیسے پتہ چلے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے پڑوسیوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا تو واقعی تم نے اچھا کام کیا، اور جب تم لوگوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تو نے برا کام کیا تو تم نے واقعی برا کام کیا۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.