(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ صُبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ : أَنَّهُ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا ، فَأَسْلَمَ ، فَسَأَلَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقِيلَ لَهُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ ، فَقِيلَ لَهُ : أَحَجَجْتَ ؟ قَالَ : لَا ، فَقِيلَ لَهُ : حُجَّ وَاعْتَمِرْ ، ثُمَّ جَاهِدْ ، فَأَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا ، فَوَافَقَ زَيْدَ بْنَ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَقَالَا : هُوَ أَضَلُّ مِنْ نَاقَتِهِ ، أَوْ : مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ جَمَلِهِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا ، فَقَالَ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .سیدنا ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک دیہاتی قبیلہ بنو تغلب کے عیسائی آدمی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ، انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ لوگوں نے بتایا ، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ، چنانچہ انہوں نے جہاد کا ارادہ کر لیا ، اسی اثناء میں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے حج کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ! اس نے کہا : آپ پہلے حج اور عمرہ کر لیں ، پھر جہاد میں شرکت کریں ۔ چنانچہ وہ حج کی نیت سے روانہ ہو گئے اور میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی نے یہ بات سن لی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔