حدیث نمبر: 3756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ : فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ ، وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ ، وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ ، فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ : فَالَّذِي يُرْبَطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَعَلَفُهُ وَرَوْثُهُ وَبَوْلُهُ ، وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ : فَالَّذِي يُقَامَرُ أَوْ يُرَاهَنُ عَلَيْهِ ، وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ : فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا ، فَهِيَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، بعض گھوڑے تو رحمان کے ہوتے ہیں، بعض انسان کے اور بعض شیطان کے، رحمان کا گھوڑا تو وہ ہوتا ہے جسے اللہ کے راستہ میں باندھا جائے، اس کا چارہ، اس کی لید اور اس کا پیشاب اور دوسری چیزیں (سب اللہ کے لئے ہوتی ہیں اور ان پر انسان کو ثواب ملتا ہے)، شیطان کا گھوڑا وہ ہوتا ہے جس پر جوا لگایا جائے یا اسے گروی کے طور پر رکھا جائے، اور انسان کا گھوڑا وہ ہوتا ہے جسے انسان اپنا پیٹ بھرنے کے لئے روزی کی تلاش میں باندھتا ہے اور وہ اسے فقر و فاقہ سے بچاتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناده ضعيف ، شريك سيئ الحفظ ، والقاسم لم يدرك عبدالله.