حدیث نمبر: 3717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ : يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ ، وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ، لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ، وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " ، وَضَمَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو أَصَابِعَهُ ، وَصَوَّبَهَا ، وَفَتَحَ مَا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ ، يَعْنِي الْفَجْرَ .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آ جائیں، اور سونے والے بیدار ہو جائیں (اور سحری کھا لیں) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی - راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا - بلکہ اس طرح ہوتی ہے“، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔