حدیث نمبر: 3596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا أَحْسَنْتُ فِي الْإِسْلَامِ ، أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا أَحْسَنْتَ فِي الْإِسْلَامِ ، لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ ، أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 3596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6921، م: 120