حدیث نمبر: 349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : جاء العباس ، وَعَلِيٌّ إلى عمر يختصمان ، فقال العباس : اقض بيني وبين هذا الكذا كذا ، فقال الناس : افصل بينهما ، افصل بينهما ، قَالَ : لَا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا ، قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال

مالک بن اوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ کرانے آئے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور ان کے درمیان فلاں فلاں چیز کا فیصلہ کر دیجئے ، لوگوں نے بھی کہا کہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ دونوں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ۔ “

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2904، م: 1757