(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ ، سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا ، أَوْ تَقْوَى فِي الْآخِرَةِ ، لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ وَلَا نِسَائِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ وُقِيَّةً " . وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ : قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ ، أَوْ دَفَّ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا وَفِضَّةً ، يَبْتَغِي التِّجَارَةَ ، فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " .ابوالعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو ! اپنی بیویوں کے مہر زیادہ مت باندھا کرو ، کیونکہ اگر یہ چیزیں دنیا میں باعث عزت ہوتی یا اللہ کے نزدیک تقویٰ میں شمار ہوتی تو اس کے سب زیادہ حق دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں تھا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص دوران جہاد مقتول ہو جائے یا طبعی طور پر فوت ہو جائے ، تو آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی شہید ہو گیا ، فلاں آدمی شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہوا ، حالانکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پچھلے حصے میں یا کجاوے کے نیچے سونا چاندی چھپا رکھا ہو ، جس سے وہ تجارت کا ارادہ رکھتا ہو ، اس لئے تم کسی کے متعلق یقین کے ساتھ یہ مت کہو کہ وہ شہید ہے ، البتہ یہ کہہ سکتے ہو کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں مقتول یا فوت ہو جائے (وہ شہید ہے ) اور جنت میں داخل ہو گا ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔