حدیث نمبر: 3315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهُ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا ، فَصَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ ، ثُمَّ أَتَى الْقِتَانَ فَخَطَبَهُنَّ ، ثُمَّ أَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَرْأَةَ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا ، تُعْطِيهِ بِلَالًا يَتَصَدَّقُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اپنے اہل خانہ کو بھی عید گاہ لے کر جائیں، ایک مرتبہ ہم لوگ روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس جمع کرانے لگیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، إلا أنه قد توبع