حدیث نمبر: 3301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا ، وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْفَتَلَ ، فَقَالَ : " أَنَامَ الْغُلَامُ ؟ " وَأَنَا أَسْمَعُهُ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَفِي لِسَانِي نُورًا ، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آ گئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے: ”کیا بچہ سو گیا؟“ حالانکہ میں سن رہا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 763