حدیث نمبر: 3092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، قَالَ : " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ ، قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " ، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64 .
مولانا ظفر اقبال

عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر اور عصر میں قراءت نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، اور تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، اور ”آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح