حدیث نمبر: 3010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ ، فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ ، وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ ، لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ ، حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ ، عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطا فرما دیتے، اور جس سال رمضان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 3010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق وهو صدوق حسن الحديث، وإن كان مدلسا وقد عنعن، وقد توبع ، خ: 6، م: 2308