حدیث نمبر: 2998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ : زَنَيْتُ : " لَعَلَّكَ غَمَزْتَ ، أَوْ قَبَّلْتَ ، أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ " ، قَالَ : كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِيَ مَا الزِّنَا .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”شاید تم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہوگی؟ یا بوسہ دے دیا ہوگا؟ یا اسے دیکھا ہوگا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو در اصل یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اسے زنا کا مطلب ہی معلوم نہ ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6824