حدیث نمبر: 2946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا تَصُمْ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ ، فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ ، وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح