حدیث نمبر: 293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُخَارِقِ زُهَيْرُ بْنُ سَالِمٍ : أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ وَلَّاهُ عُمَرُ حِمْصَ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ عُمَرُ يَعْنِي لِكَعْبٍ : " إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ ، قَالَ : مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَئِمَّةً مُضِلِّينَ ، قَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ ، قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعید کو حمص کا گورنر مقرر فرما رکھا تھا ، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں ، مجھ سے کچھ نہ چھپانا ، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے جس چیز کا علم ہو گا ، اسے نہیں چھپاؤں گا ، فرمایا : امت مسلمہ کے حوالے سے تمہیں سب سے زیادہ خطرناک بات کیا معلوم ہوتی ہے ؟ عرض کیا : گمراہ کن ائمہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ، مجھے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زهير بن سالم ولم يسمع من عمر