حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ ، فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ : أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . . . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
مولانا ظفر اقبال

عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی فوت ہو گئی ، اس کے جنازے میں سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں شریک ہوئے ، جبکہ میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے عمرو بن عثمان سے کہا کہ تم ان لوگوں کو رونے سے کیوں نہیں روکتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میت پر اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه