حدیث نمبر: 2832
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ ، أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ . فَقَالَ " لَا حَرَجَ " قَالَ : فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَبَضَ بِكَفَّيْهِ كَأَنَّهُ يَرْمِي بِهَا ، وَيَقُولُ : " لَا حَرَجَ ، لَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: ”کوئی حرج نہیں۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307