حدیث نمبر: 2763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ حَنَشًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " يَا غُلَامُ ، إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا ، احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ ، إِذَا سَأَلْتَ ، فَاسْأَلْ اللَّهَ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ ، فَقَدْ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ ، وَجَفَّتْ الْكُتُبُ ، فَلَوْ جَاءَتْ الْأُمَّةُ يَنْفَعُونَكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ ، لَمَا اسْتَطَاعَتْ ، وَلَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَضُرَّكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ لَكَ ، مَا اسْتَطَاعَتْ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ لكن رواه عنه ابن المقرئ، وهو ممن روى عنه قبل احتراق كتبه ، ثم هو متابع