حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : انْطَلَقْتُ مَعَ خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، أَوْ قَالَتْ : قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ لِي : " أَيَسُرُّكِ أَنْ يُجْعَلَ فِي يَدِكِ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ ؟ ! " فَقُلْتُ لَهَا : يَا خَالَتِي ، أَمَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ ؟ ، قَالَتْ : وَمَا يَقُولُ ؟ قُلْتُ : يَقُولُ : أَيَسُرُّكِ أَنْ يُجْعَلَ فِي يَدَيْكِ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ ، أَوْ قَالَ : قُلْبَانِ مِنْ نَارٍ ، قَالَتْ : فَانْتَزَعَتْهُمَا ، فَرَمَتْ بِهِمَا ، فَلَمْ أَدْرِ أَيُّ النَّاسِ أَخَذَهُمَا ؟ .حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، انہوں نے سونے کے کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے خاتون ! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کی چنگاریوں کے کنگن اور انگوٹھیان پہنائے ؟“ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، میں نے اپنی خالہ سے کہا : خالہ ! اسے اتار کر پھینک دو ، چنانچہ انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کس نے انہیں ان کی جگہ سے اٹھایا۔