حدیث نمبر: 27601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَخِيَارُكُمْ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَشِرَارُكُمْ الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟“ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ لوگ کہ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے“، پھر فرمایا : ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بدترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ جو چغلخوری کرتے پھریں، دوستوں میں پھوٹ ڈالتے پھریں، باغی، آدم بیزار اور متعصب لوگ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه