حدیث نمبر: 27599
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ تَعَالَى " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ ، الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفْسِدُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْبَاغُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟“ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ لوگ کہ جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے“، پھر فرمایا : ”کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بدترین آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ جو چغلخوری کرتے پھریں، دوستوں میں پھوٹ ڈالتے پھریں، باغی، آدم بیزار اور متعصب لوگ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواهده ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وقد اختلف عليه فيه