حدیث نمبر: 27563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ , فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا , فَقَالَ : " أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ , أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ ؟ " , قَالَتْ : فَأَلْقَيْتُهُمَا , فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسماء ! یہ دونوں کنگن اتار دو ، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے“، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف داود، و شهر بن حوشب