حدیث نمبر: 27545
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَا عِيسَى , إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً , إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ , حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا , وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ , احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا , وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ , قَالَ : يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ , وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ ؟ قَالَ : أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے " بقول راوی میں نے انہیں اس سے قبل یا بعد میں نبی کی کنیت ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا " کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں، انہیں اگر کوئی خوشی نصیب ہوگی تو وہ حمد و شکر بجا لائیں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آئے گی تو وہ اس پر صبر کریں گے اور ثواب کی نیت کریں گے اور کوئی حلم و علم نہ ہوگا، انہوں نے عرض کیا پروردگار ! یہ کیسے ہوگا جبکہ ان کے پاس کوئی حلم و علم نہ ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں انہیں اپنا حلم و علم عطاء کروں گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حلبس يزيد بن ميسرة