حدیث نمبر: 27529
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ , فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ , وَيَسْأَلُهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ , فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ , فَلَعَنَهَا , فَقَالَتْ : لَا تَلْعَنْ , فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال

زید بن اسلم کہتے ہیں کہ مروان کا بیٹا عبدالمالک حضرت ام دردا کو اپنے یہاں بلا لیتا تھا، وہ اس کی عورتوں کے یہاں رات گذارتی تھیں اور وہ ان سے نبی کے متعلق پوچھتا رہتا تھا ایک رات وہ بیدار ہوا تو خادمہ کو آواز دی، اس نے آنے میں تاخیر کردی تو وہ سے لعنت ملامت کرنے لگا، حضرت ام دردا نے فرمایا لعنت مت کرو کیونکہ ابودردا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی کو کہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لعنت ملامت کرنے والے قیامت کے دن گواہ بن سکیں گے اور نہ ہی سفارش کرنے والے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2598