حدیث نمبر: 27500
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ , فَقُلْتُ : مَنْ أَغْضَبَكَ ؟ قَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَعْرِفُ فِيهِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا , إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام دردا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ واللہ ! میں لوگو میں نبی کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 650