حدیث نمبر: 27470
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ , قَالَ : قَالَتْ أَسْمَاءُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمْ الْعَيْنُ , أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ , فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقٌ الْقَدَرَ , لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ " .مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! جعفر کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے ، کیا میں ان پر دم کر سکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی تو وہ نظر بد ہوتی ۔ “