حدیث نمبر: 27407
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَعْلَمَهُمْ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ , ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ , قَالَ : فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " لَا تَطْعَمُوهُ " , ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ , ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا , فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ " , قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " لَا تَطْعَمُوهُ " , ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا , سَأَلُوهُ عَنْهُ , فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " , قَالُوا : نَعَمْ , قَالَ : " لَا تَطْعَمُوهُ " , قَالُوا : فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا , قَالَ : " مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یمن کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کا طریقہ، سنتیں اور فرائض سکھائے پھر وہ لوگ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہم لوگ گیہوں اور جَو کا مشروب بناتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہی جس کا نام «غبيراء» رکھا گیا ہے ؟“ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے مت پیو“، دو دن بعد انہوں نے پھر اسی چیز کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا : ”وہی جس کا نام «غبيراء» ہے ؟“ تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے اور واپس روانہ ہوتے ہوئے بھی یہی سوال جواب ہوئے، لوگوں نے عرض کیا کہ اہل یمن اسے نہیں چھوڑیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص اسے نہ چھوڑے اس کی گردن اڑا دو ۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف دراج وأبن لهيعة، وقد توبع