حدیث نمبر: 27406
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَتْ لَهُ بِسَوِيقٍ , فَشَرِبَ , فَقَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي , أَلَا تَتَوَضَّأُ , فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ , قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال

ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کر لی، تو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : بھتیجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين