حدیث نمبر: 27307
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ : بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ , أَنْ لَا نَنُوحَ " , فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ , فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي ، فَقَالَ : فَكأنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ ، فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ , ثُمَّ رَجَعَتْ , فَبَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ , وَغَيْرُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : «عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا . . .» تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! فلاں خاندان والوں کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہٰذا میرے لئے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں، سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مستثنیٰ کر دیا ، وہ گئیں ، انہیں پرسہ دیا اور واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی، وہ کہتی ہیں کہ پھر اس وعدے کو ان کے اور ام سلیم بنت ملحان کے علاوہ کسی نے وفا نہ کیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4892، م: 937