حدیث نمبر: 27209
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً , وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعُثْمَانَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَكَانُوا يَقْنُتُونَ ؟ قَالَ : لَا ، أَيْ بُنَيَّ ، مُحْدَثٌ " .
مولانا ظفر اقبال

ابومالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت طارق رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا کہ ابا جان ! آپ نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم اور یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، کیا یہ حضرات قنوت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ”بیٹا ! یہ نو ایجاد چیز ہے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خلف بن خليفة مختلط، ولم يتحرر لنا سماع حسين بن محمد منه أكان قبل الاختلاط أم بعده