حدیث نمبر: 27185
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو , أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ , أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ " ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنِّي فِي الْبَعْثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلًم : " أَلَسْتَ تُحِبًّ مَا أُحِبُّ ؟ " , قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اذْهَبْ ، فَأْتِنِي بِهَا " , فَذَهَبْتُ ، فَجِئْتُهُ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی لشکر میں شامل تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ”جا کر میرے پاس میمونہ کو بلا کر لاؤ“ ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں لشکر میں شامل ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی، میں نے اپنا عذر دوبارہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے جسے میں پسند کرتا ہوں ؟“ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ، چنانچہ میں جا کر انہیں بلا لایا۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن صح سماع الحسن بن على من جده أبى رافع