حدیث نمبر: 27165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ مِنْ خُزَاعَةَ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثٌ , وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا يُؤْثِمُهُ ، قَالَ : " يُقِيمُ عِنْدَهُ ، وَلَا يَجِدُ شَيْئًا يَقُوتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ضیافت تین دن تک ہوتی ہے اور جائزہ (پرتکلف دعوت) صرف ایک دن رات تک ہوتی ہے، اس سے زیادہ جو ہوگا وہ اس پر صدقہ ہوگا اور کسی آدمی کے لئے جائز نہیں ہے کہ کسی شخص کے یہاں اتنا عرصہ ٹھہرے کہ اسے گناہگار کر دے“، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! گناہگار کرنے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ”وہ میزبان کے یہاں ٹھہرا رہے جبکہ میزبان کے پاس اسے کھلانے کے لئے کچھ بھی نہ ہو۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح