حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَال : أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقِل ، قَالَ : قَالَتْ : جَاءَ أَبُو مَعْقِلٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبُو مَعْقِل ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ مَعْقِلٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّة ، وَأَنَّ عِنْدَكَ بَكْرًا ، فَأَعْطِنِي , فَلْأَحُجَّ عَلَيْهِ ، قَال : فَقَالَ لَهَا : إِنَّكِ قَدْ عَلِمْتِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَتْ : فَأَعْطِنِي صِرَامَ نَخْلِكَ ، قَال : قَدْ عَلِمْتِ أَنَّهُ قُوتُ أَهْلِي ، قَالَتْ : فَإِنِّي مُكَلِّمَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكِرتُهُ لهَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ ، قَال : فَقَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّه ، إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً ، وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقِلٍ بَكْرًا ، قَالَ أَبُو مَعْقِلٍ : صَدَقَتْ ، جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّه ، قَالَ : " أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْه ، فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّه " ، قَالَ : فَلَمَّا أَعْطَاهَ الْبَكْرَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّه ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ ، فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي عَنْ حَجَّتِي ، قَالَ : فَقَالَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ لِحَجَّتِكِ " .حضرت مروان کا وہ قاصد ”جسے مروان نے حضرت ام معقل رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا“ کہتا ہے کہ حضرت ام معقل رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ابومعقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر کے جب واپس آئے تو میں نے ان سے کہا: آپ جانتے ہیں کہ مجھ پر حج فرض ہے ، آپ کے پاس ایک جوان اونٹ ہے ، آپ وہ مجھے دے دیں کہ میں اس پر سوار ہو کر حج کر لوں ، انہوں نے کہا: تم تو جانتی ہو کہ میں نے اسے اللہ کے راستہ میں وقف کر دیا ہے ، ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر مجھے اپنے درخت کی کٹی ہوئی کھجوریں ہی دے دو ، انہوں نے کہا: تم تو جانتی ہو کہ وہ میرے اہل خانہ کی روزی ہے ، ام معقل نے کہا کہ میں اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کروں گی اور انہیں یہ ساری بات بتاؤں گی ۔ چنانچہ وہ دونوں پیدل چلتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ام معقل رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ پر حج فرض ہے اور ابومعقل کے پاس ایک جوان اونٹ ہے ( لیکن یہ مجھے دیتے نہیں ہیں) ، ابومعقل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ سچ کہتی ہے، لیکن میں نے اسے اللہ کے راستہ میں وقف کر دیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ اونٹ اسے حج پر جانے کے لئے دے دو کیونکہ وہ بھی اللہ ہی کی راہ ہے“ ، جب ابومعقل رضی اللہ عنہ نے وہ اونٹ ان کے حوالے کر دیا تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میں بہت بوڑھی ہو گئی ہوں اور بیمار رہنے لگی ہوں، کیا کوئی ایسا عمل ہے جو حج کی جگہ کافی ہو جائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رمضان میں عمرہ کرنا تمہارے حج کی طرف سے کافی ہو جائے گا ۔“