حدیث نمبر: 2704
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ ، وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ ، تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر الحمدللہ کہا اور فرمایا: ”مومن کے کے لئے خیر ہی ہوتی ہے اور مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، إسرائيل روي عن ابن السائب بعد اختلاطه، لكنه توبع