حدیث نمبر: 26987
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ عَلَى بَيْتِي ، فَأُعْطِي مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَعْطِي ، وَلَا تُوكِي ، فَيُوكِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح