حدیث نمبر: 26984
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ , سَمِعَاهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ الزُّبَيْرِ رَجُلٌ شَدِيدٌ ، يَأْتِينِي الْمِسْكِينُ ، فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْضَخِي ، وَلَا تُوعِي ، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیرگھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن