حدیث نمبر: 26965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ وَهِيَ أُمُّهُ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيُتِمَّ وَقَالَ رَوْحٌ : فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ , وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحْلِلْ " , قَالَتْ : فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ ، فَحَلَلْتُ ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ ، قَالَتْ : فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : قُومِي عَنِّي , قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ ؟.
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہوا سے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے، میرے ساتھ چونکہ ہدی کا جانور نہیں تھا، لہذا میں حلال ہوگئی اور میرے شوہر حضرت زبیر کے پاس ہدی کا جانور تھا لہذا وہ حلال نہیں ہوئے، میں اپنے کپڑے پہن کر اور احرام کھول کر حضرت زبیر کے پاس آئی تو وہ کہنے لگے کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ میں نے کہا کیا آپ کو اندیشہ ہے کہ میں آپ پر کو دوں گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1236