حدیث نمبر: 26952
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنَا ، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً ، فَأَحْلَلْنَا كُلَّ الْإِحْلَالِ ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہوگئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد